امام مهدی غیر مسلمون کی نظر
امام مهدی غیر مسلمون کی نظر
امام مہدی مستشرقین کی نظر میں
مضمون نگار:محمد علی حجتی ،المصطفی یونیورسٹی
منجی عالم ،مسیحای زمان اورنجات بخش انسانیت ،ایسی اصطلاحات ہیں جو بشر کے ذھن میں ہردور میں ایک حقیقت کی شکل میں موجود رہی ہیں اس کا تعلق کسی مذہبی طبقے سے مخصوص نہیں بلکہ کائنات کو ظلم وجور سے نجات دلاکر عدل وانصاف سے بھردینے کا تصور تاریخی حقائق سے آگاہ اورباشعور لوگ اس کے بارے میں مختلف انداز سے ذہنوں میں رکھتےہیں کچھ لوگ اس شخصیت کو مسیحیا کے نام سے جانتے ہیں تو اسلام میں اس مجنی عالم کو المہدی المنتظر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے جو کہ متعدد قرآنی آیات اور روایات نبوی کی روشنی میں امت اسلام کے بارہویں امام ہیں (الامام المہدی امل الشعوب،حسن موسی الصفار چاپ بیروت ص۳۱)
مغربی دانشوروں نے بھی مسلمانوں کی طرح اس موضوع پر کم وبیش مطالعہ اور تحقیق کی ہے فرق اتنا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں ایک اسلامی عقیدے کے طورپر قرآن اوراحادیث کی روشنی میں بحث اورگفتگو کی جاتی ہے اور طبیعی ہے کہ اسی انداز سے تحقیقات اورلکھی گئی کتابوں کا نتیجہ بھی مغربی دانشوروں کی تحقیقات سے مختلف ہوگا خود مستشرقین دانشوروں میں مہدویت کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتےہیں کہ جن میں سے بعض درج ذیل ہیں
بعض اس عقیدہ کو شیعوں کے ساتھ مخصوص عقیدے کے طور پر مانتے ہیں جیسے
مایکل مالرب: کہتا ہے کہ شیعوں کے نزدیک امامت کا سلسلہ بارہویں امام پر ختم ہوتا ہے اس نے نویں صدی میں غیبت اختیار کی اوروفات نہیں پائی (بلکہ زندہ ہے )اورلوگوں کی نظروں سے غائب ہے ۔۔۔۔شیعہ اس کو امام مہدی عج کے نام سے یاد کرتےہیں اوراس کی آمد کے منتظر ہیں جس طرح یہودی (مسیحیا )کے آنے کے منتظر ہیں
جان بایرناس :
John Boyernoss
کہتا ہے کہ امامت کا سلسلہ اور راہنماوں کی الہی وراثت جاری رہی یہاں تک کہ بارہویں امام پر ختم ہوئی کیونکہ وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور المہدی المنتظر کے لقب سے جانے جاتے ہیں اورعنقریب دوبارہ مسیحیا کی طرح قیامت سے پہلے ظہورکرکے پوری کائنات پر اپنی حکومت قائم کریں گے ۔(تاریخ ادیان ،جان ناس بایر ،ترجمہ ،علی اصغر حکمت )
(۳)ھیار
J.G.J Ler Haar
کہتا ہے :شیعوں کا رسمی اوراساسی عقیدہ یہ ہےکہ گیارہویں امام نے اپنا جانشین اپنے بعد منتخب کیا ہے اوروہی ان کا نائب ہے اوراکثر منابع کا اس سلسلے میں اتفاق ہے کہ وہ ۱۵ شعبان کو پیدا ہوئے ہیں (تصورامامان شیعہ در دائرۃ المعارف الاسلامیہ ص۴۵۱)
(۴)ریچارڈ بوش :
بھی ان افراد میں سےہے جو اس عقیدہ کو شیعوں کے ساتھ مخصوص سمجھتا ہے اورکہتا ہے کہ وہ (امام مہدی )شیعوں کے آخری امام ہیں اورمہدی کے نام سے مشہور ہیں جو کہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق پردہ غیب میں ہیں یعنی ایسی حالت میں انہیں مادی آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا (جہان مذہبی ،ریچارڈ بوش ،ترجمہ عبدالرحیم گواہی ص۸۹۱)
مذکورہ بالا اقوال میں انہوں نے اس عقیدے کو شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہوئے ایسی کوئی بات نہیں کہی جو ان کے عقیدے کو بیان کرسکے
(ب) کچھ مستشرقین اس عقیدہ مہدویت کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ گویا اسلام کا اس سے تعلق نہیں اور شیعوں کے ہاں یہودیوں اور عیسائیوں کی تقلید کرتےہوئے اس عقیدے کو اپنایا گیا ہے
رابرٹ ھیوم : کہتا ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے ہاں رائج عقیدہ یہ ہے کہ بارہویں امام ان کی نظروں سے غائب ہیں اورایک دن دوبارہ ظاہرہوں گے یہ اعتقاد یہودیوں اورعیسائیوں کا حضرت عیسی کی رجعت کے بارے میں عقیدہ سے مختلف نہیں ہے (ادیان زندہ جہان ،رابرٹ ھیوم ،ص۳۷۰)
نقد : اولا یہ منجی عالم بشریت کا عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ھندو ،زردشت اوررومیوں کے نزدیک بھی اپنے اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق کائنات کو عدل وانصاف سے بھر دینے والی شخصیات کے بارے میں عقیدے رکھتے ہیں
ثانیا : شیعوں کے ساتھ مخصوص عقیدے کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے اورمسلمان امام مہدی عج کے ظہو رپر عقیدہ رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں اگرچہ بعض جزئیات میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن اصل ثابت ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے
ثالثا : مسلمان بھی حضرت عیسی کے زندہ ہونے کا اقرار کرتےہیں لیکن جو منجی عالم بشریت ہے وہ حضرت امام مہدی عج ہیں کہ جن کے پیچھے حضرت عیسی زمین پر آکر نماز پڑھیں گے اور ان کی مدد کریں گے یہ دو ہستیاں جدا جدا ہیں اورسینکڑوں روایات اس بارے میں واردہوئی ہیں جو شیعہ اوراہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں
اگناز گلدزیہر:
متعصب مستشرق ہے جس نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا ہے اسلام اورمسلمانوں پر تنقید کیے بغیر اس کو سکون نہیں آیا قرآن کے بارے میں اس کی کتاب ہو یا سنت کے بارے میں اس کا نظریہ اس نے تنقید کے بغیر نہیں چھوڑا وہ امام مہدی کے بارے میں شیعوں کے عقیدے کو کبھی قضا وقدر سے جوڑ دیتا ہے تو کبھی اس کو یہودیوں اورعیسائیوں کی تقلید سمجھتا ہے اس کا اصل قول یہ ہے :
(مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ،خداوندمتعال نے جس چیز میں رای کے اظہار کی اجازت نہیں دی اس میں ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اوران کو اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے اسی لیے انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس پر امید رکھے رہے کہ خداوندمتعال ظلم سے بھری دنیا کے بارے میں کیا حکم کرتا ہے اسی عقیدے کی وجہ سے مہدی کے بارے عقیدہ پیدا ہوا ہے )العقیدہ والشریعۃ فی الاسلام ،اگنازگلدزیہر ،ترجمہ ،یوسف موسی ص۷۴)
اولا :اسلام میں اللہ اورا س کے بھیجے ہوئے انبیاء کی پیروی انسانیت کی فلاح اورایمان کی نشانی سمجھی گئی ہے ۔
ثانیا :اسلام میں کسی طریقے سے ظلم وستم برداشت کرنے کی کوئی سفارش نہیں کی گئی بلکہ ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کو بھی جہاد سمجھا گیا ہے اورامام مہدی کی حکومت کا ایک مقصد بھی یہی ہے اورقرآن کے مطابق ایسا حتمی ہوگا جیسے قرآن کی یہ آیت (وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا ۔۔۔۔۔۔۔۔سورہ نور آیت ۵۵)
اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان اورعمل صالح کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اوران کے لیے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کےلیے پسندیدہ قراردیا ہے اوران کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا ۔۔۔
ثالثا :خود عیسائیوں میں یہ رسم ہے کہ مردے کو تلقین کے وقت ان کے جملے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تمہیں مسیحیا کے ساتھ دوبارہ زندہ کرے تو یہاں کیا کہا جائے گا
رابعا :یہ عقیدہ بھی دوسری اسلامی تعلیمات کی طرح خود رسول اکرم ص نے امت اسلامی کو یہ خوشخبری دی ہے
خامسا :اسلام ایک ابدی اورآخری دین ہے اس کی تعلیمات بھی جاودانی ہیں اورقیامت تک یہ تعلیمات انسان کی فلاح کے لیے موجود ہیں انہیں میں سے ایک عادل امام کا ظہور ہے جو قیامت سے پہلے ظہور کریں گے ۔
گلدزیہر ایک اورجگہ پر کہتا ہے کہ :جب سے مذہب شیعہ کی ابتداء ہوئی ہے امام غائب اوران کے دوبارہ ظہو رکے بارے میں عقیدہ بھی مضبوط ہوتا رہا ہے اورجن لوگوں نے علی اور اس کی ذریت پر امیدیں قائم کی ہیں یہ عقیدہ ان کے ہاں زیادہ مضبوط ہے بلکہ یہ عقیدہ شروع سے چلاآرہا ہے عبداللہ بن سبا نے حضرت علی کے بارے میں کہا کہ امام علی ایک دن واپس لوٹ کرآئیں گے اوررجعت کے بارے میں خیال اورفکر ذاتی طورپر شیعوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہودیوں اورعیسائیوں کے اثرات کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوا ہے جیسے ایلیا نبی وغیرہ ۔۔۔
نقد
گلدزیہر کی باتوں سے چند نکتے سمجھ میں آتے ہیں
پہلا یہ کہ عقیدہ مہدویت کو عبداللہ بن سبا کے ساتھ جوڑدیا ہے
دوسرا کبھی اس عقیدے کو یہودیوں اورعیسائیوں کی تقلید قراردیتا ہے
حالانکہ اگر مذہب شیعہ کی تعلیمات کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتا ہوتا تو جان لیتا کہ شیعوں کے نزدیک عبداللہ بن سبا کی کوئی واقعیت نہیں ہے اور شروع سے لے کر آج تک اس موضوع پر بہت سی اہم کتابیں شیعوں کی طرف سے لکھی گئی ہیں کہ جن میں یہ ثابت کیاگیا ہے کہ عبداللہ بن سبا کو کوئی خارجی وجود نہ تھا اورمذہب شیعہ کی تمام تر تعلیمات پیغمبر اکرم اور ان کے بارہ جانشینوں سے لی گئی ہیں جو اسلام اورشریعت کی حقیقت ہیں اورحقیقی اسلام کا شاخسار ہیں اوریہ امتیاز صرف مذہب شیعہ کو حاصل ہے کہ پیغمبر اکرم جو ایک معصوم انسان تھے ان کے بعد تقریبا ۲۴۰ سال تک شیعوں کے راہنما معصوم انسان تھے یہ امتیاز کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے
تاریخ سے بھری کتابوں میں ان بارہ ہستیوں کی زندگی ،ان کی زیارت گاہیں اوران کی سیرت اورکردار نہ صرف شیعوں کے نزدیک معتبر ہے بلکہ دوسرے فرقوں کے نزدیک بھی معتبر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ شیعوں کے چھٹے امام دوسرے فرقوں کے اماموں کے استاد ہیں اوروہ اسی امام کی شاگردی میں رہ کر کچھ حاصل کرسکے ہیں
ثانیا : یہ جو اکثر مستشرقین کے بیانات میں دیکھا گیا ہے کہ کہتےہیں کہ یہ عقیدہ یہودیوں اورعیسائیوں سے لیا گیا ہے تو عرض ہے کہ
اگر مسلمانوں کے عقیدے کو صحیح طورپر سمجھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ قرآن اورروایات کی روشنی میں پانچ اولوالعزم پیغمبر گزرے ہیں کہ جن میں سے ہرایک کے آنے کے بعد پہلے کی شریعت ختم ہوجاتی رسول اکرم آخری اولوالعزم پیغمبر تھے کہ جن کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے اورقیامت تک یہی دین اسلام جاری رہے گا
ان پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے صحیفوں میں کچھ باتیں مشترک تھیں جن کو تمام امتوں تک پہنچانا ہر نبی کا فرض تھا جن میں سے ایک امام مہدی کا ظہو رہے جیسے کہ قرآن کی یہ آیت ہے ولقد کتبنافی الزبورمن بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون ) اورہم نے ذکرکے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ ہماری زمیں کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے
علامہ فیض کاشانی کے مطابق اس آیت میں ذکرسے مراد تمام آسمانی کتابیں ہیں
یعنی تمام آسمانی کتابوں کی طرح زبور میں بھی لکھ دیا گیا ہے پس یہ عدل وانصاف کی حکومت کہ جس کا قیام امام مہدی کریں گے ایسی چیز ہے کہ جس کی تبلیغ اورمومنین کوخوشخبری دینا تمام انبیاء کے ذمہ داریوں میں شامل تھا اسی کی خوشخبری حضرت موسی نے دی اور اسی کی خوشخبری حضرت عیسی نے دی اورپھر آخر میں رسول اکرم ص نے اس کے تمام خدوخال کو واضح کرکے بیان کردیا تو بجائے اس کے یہودی اورعیسائی تنقید کریں اس عقیدے کو مان لیں اورشیعوں کے ساتھ شامل ہوجائیں لیکن جو پیغمبر کی نبوت کہ جس کی بشارت واضح طورپر ان کی کتابوں میں آئی انہوں نے تحریف کرکے اس کی نبوت کو نہیں مانا تو کیسے اس کے بیٹے کی امامت کے قائل ہوجائیں گے اوریہ توقع ان سے نہیں کی جاسکتی ۔
غیرمسلموں کی نظر میں مہدی عج کا تصور
تمام اقوام عالم کے نزدیک سندو مدرک کے ساتھ جامع بحث و عقیدہ یہ ہے کہ تمام دنیا ایک مصلح بزرگ کے انتظار میں لحظہ شماری کر رہی ہے کہ جس کے آنے سے ظلم و بربریت کی جنگ خونریزی کی بساط لپٹ جائے گی اور ظلم و فساد سے ویرانیوں کو ایک نئی حکمت سے انسان کے صحیح نظریات اور ایمان و صلح و صفاسے قائم کرے گا۔
یہ جغرافیائی حدود ختم ہو جائیں گے دنیا کے کئی رنگ ہوں گے مہدیٴ ظہور فرمائے گا اور پوری کائنات میں ایک جہانی حکومت کو عدالت اور جمہوریت سے درست قائم کر دے گا۔
اقوام موعود:
تمام اذہان اور مذاہب جہان خواہ و ثنیت ہو یا حکمیت ہو یا مسیحیت ہو یا اسلام ہو تمام میں یہ بات مشترک ہے کہ دنیا کا مصلح آخری زمانے میں آئے گا اور انسانی خیانتوں کا خاتمہ کردے گا اور اس کی جہانی واحد حکومت، عدالت و جمہوریت کی بنیاد پر استوار ہو گی۔
اس مصلح بزرگ کے آنے کی نوید قرآن کے علاوہ تمام آسمانی کتب میں موجود ہے انجیل،توریت، زبور وغیرہ میں آیاہے۔
اگرچہ قرآن کے علاوہ باقی تمام آسمانی کتب تحریف سے محفوظ نہیں رہیں ان کتب میں بھی بعض مقامات تحریف سے بالکل محفوظ ہیں کہ انہی مقامات پر مہدیٴ موعود اور مصلح جہانی کے آنے کی اطلاع اور اس کی عالمی حکومت کی بات ہوئی ہے۔
کیونکہ بات پیشینگوئی کی صورت میں ہے اور آئندہ سے مربوط ہے ان کتب کے مضامین قرآن مجید اور اخبار متواتر میں آئے ہیں اس لحاظ سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ وحی کہ زبان ہے اور طول تاریخ میں انسانوں کے تحریف کے ہاتھوں سے محفوط ہے۔
اب ہم مختلف مذاہب کی مختلف کتب سے مہدی موعودٴ کے متعلق خوشخبریاں اور نوید ذکر کرتے ہیں:
زبور میں مہدیٴ موعود:
حضرت داؤدٴ کی زبور میں مزامیر کے عنوان کے تحت عہد عقیق میں ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اس زبورکے ہر حصے میں موعود کے متعلق اشادہ موجود ہے اور یہ بشارتیں بھی جگہ جگہ موجود ہیں کہ نیک لوگوں کو بڑے لوگوں پر فتح نصیب ہوگی اور ایک عالمی حکومت قائم ہو جائے گی مختلف ادیان اور متعدد مذاہب سب ایک دین محکم اور مستقیم پر آجائیں گے (عہدعقیق) قابل توجہ ہے کہ امام زمانٴ کے متعلق قرآن میں کافی آیات سے ایک آیت یہ بھی ہے کہ جس کی تفسیر شیعہ اور سنی دونوں مفسیرین نے ’’ظہور مہدیٴ‘‘ سے کی ہے۔
ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الزکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون۔(سورہ انبیائ آیت١٠٥)
یعنی ذکر کے علاوہ ہم نے زبور میں لکھا ہے کہ میرے نیک بندے دین کے وارث ہوں گے اور تعجب ہے کہ موجودہ عبارت زبور میں تحریف کے ہاتھ سے محفوظ اور مضمون ہے یہ ہے زبور کا متن۔
البتہ مہدیٴ کی خوشخبریاں زبور میں متعدد مقامات پر بہت زیادہ ہیں جو ہم نے صرف اختصار کی وجہ سے دو مقامات کو ذکر کیا ہے مزید تحقیق کے لیے مزامیر کا متن عہدین میں دیکھ لیں۔
مہدیٴ موعود عہد عتیق میں:
چونکہ یہ خوشخبری اس قدر واضح ہیں کہ وضاحت کی ضرورت ہی نہیں اس لیے ہم صرف مختصر چند مقامات کا ذکر کرتے ہیں۔ ١۔ ایک نئی کونپل نکلے گی ایک شاخ سر سبز ہو گی اس پر خدا کی روح قرار پکڑے گی اور مسکینوں میں عدل و انصاف کے فیصلے کرے گی اور زمین پر مظلوموں کی حمایت میں حکم جاریہ ہو گا چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیے رک جائیں گے شیر اور بکری اکٹھے رہیں گے بھیڑ اور شیرباہم زندگی گزارین گے ایک چھوٹا بچہ ان کو روند ڈالے گا اور تمام مقدس پہاڑ ہر ضرر و نقصان و فساد سے محفوظ ہو گا جہانی معرفت خدا سے پر ہو گا۔
(کتاب الشیعہ فصل ١١ج١تا١٠)
٢۔ بلکہ حضرت یعقوب کی نسل سے اس کے پہاڑوں کا وارث یہودا (فرزند یعقوب) سے ظاہر ہو گا اور میرے بزرگان اس کے وارث اور میرے بندے وہاں کے ساکن ہوں گے لیکن تم (یہود کو خطاب) نے خدا کو چھوڑ دیا ہے اور مقدس پہاڑ کو بھول گئے ہو اور بخت کی وجہ سے دسترخواں آمادہ پذیری کر دیا ہے اور اتفاق کے لیے بہت کچھ کیا ہے پس تمہیں تلوار کے لیے مقدر کیا ہے اور تم تمام قتل کے لیے خم ہو جاؤ گے اپنی قوم میں خوشی کروں گا اور اب گریہ و زاری وغیرہ اب دوبارہ نہ سنا جائے گا۔(کتاب الشیعہ، فصل٢٥ بند٩،١٣،١٨،٢٠)
٣۔ اس زمانے میں امیر عظیم حضرت میکائیلٴ جو تیری قوم (خطاب بہ خطاب حضرت دانیال نبی) کے بیٹوں کے لیے کھڑا ہے اور کھڑا ہو جائے گا اور یقین ہو گا اور زمین کے مدفونین کھڑے ہوں گے جن لوگوں نے راہ راست کی ہدایت کی تو وہ ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے اے دانیال اس کلام کو ابھی مخفی رکھو اور کتاب کو اس زمانے تک کے لیے مہر لگا دے میں تا آخرالزمان یہ کلام محی اور محترم ہے خوشحال ہیں وہ جو منتظر ہیں۔(کتاب دانیال نبی فصل١٢)
٤۔ اگرچہ تاخیر سے آئے اس کی انتظار میں بیٹھو کیونکہ وہ آئے گا اور ضرور آئے گا ذرا بھر دیر نہ کرے گا بلکہ تمام امتوں کو اپنے پاس جمع کرے گا اور تمام اقوام عالم کو اپنی طرف بلائے گا(کتاب حقوق نبی فصل٢ بند٣،٥)
(کتاب الشیعہ فصل ١١ج١تا١٠)
ہم نے اختصار کی وجہ سے صرف چار مورد پیش کیے ہیں البتہ تفصیل دیکھنے والوں کو کتاب الشیعہ نبی١٩،٢٥ اور ذکر یا نبی کو دیکھنا پڑے گا۔
انا جیل عہد جدید میں مہدیٴ موعود:
١۔ جس طرح مشرق سے ایک بجلی نکلتی ہے اور مغرب سے وہ ظاہر ہوتی ہے اس طرح انسان کے لیے مہدیٴ کا ظہور ہوتا ہے اس وقت انسانی بیٹے کی علامت آسمان سے پیدا ہوتی ہے تو اس وقت تمام زمین کی طوائف سینہ زنی کریں گے کہ انسانی بیٹے (مخصوص) کو دیکھیں گے جو آسمانوں پر بادلوں سے قوت اور جلال عظیم سے آ رہا ہو گاآسمان اور زمین ختم ہو جائیںگی لیکن بات ختم نہ ہو گی ہاں اس روز کی اطلاع کس کو نہیں حتیٰ کہ آسمان کے فرشتوں کو بھی نہیں سوائے میرے باپ کے اور بس اور آپ بھی حاضر رہیں تا کہ جس وقت کا تمہیں گمان بھی نہ ہو گا وہ فرزند انسان آ جائے گا۔(انجیل متی فصل ٢٤ بند ٢٢)
٢۔ چونکہ فرزند انسان جلال سے فرشتہ کے ساتھ آئے گا اور جلالی کی کرسی پر بیٹھیں گے اور تمام انسان اس کے سامنے جمع ہوں گے۔(انجیل متی فصل ٢٥، بند٣١)
٣۔ پھر فرزند انسان کو دیکھیں گی کہ قوت و جلال عظیم سے بادلوں پر سیر کرتا ہوا آئے گا اور وہ چاروں طرف سے فرشتوں کو بلائے گا آسمان و زمین ختم ہو جائیں گے لیکن بات ختم نہ ہو گی اور اس وق کو سوائے باپ کے اور نہیں جانتا پس دعا کرو۔
(انجیل مرقس باب١٣ بند٢٦،٢٧)
٤۔ اور اس وقت کو دیکھا جائے گا کہ بادل پر سوار ہو کر قوت و جلال سے آئے گا پس اپنی حفاظت کرو تمہارے دل غافل نہ ہوں وہ اچانک تم پر ظاہر ہو جائے گا دعا کرو اور نجات حاصل کرو اور فرزند انسان کے سامنے سرخرو ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔(انجیل لوقاباب ٢١بند٣٣،٢٧)
٥۔ اس قسم کی خوشخبریاں یوحنا کی انجیل میں بھی ہیں لیکن اختصار کی وجہ سے ان کا ذکر میں آگے کروں گا یہ حکم فرزند انسان یا انسان کا بیٹا مسٹر ہاکس امریکائی کی کتاب قاموس مقدس میں ٨٠ بار تکرار ہوا ہے کہ ٣٠ مرتبہ تو حضرت عیسیٰٴ پر تطبیق کے قابل ہے جب کہ ٥٠ مرتبہ کی مہدی موعودٴ کے علاوہ کہیں تطبیق نہیں ہوتی۔
ہندوؤں کی مقدس کتب میں مہدی موعودٴ:
ہندوؤں کے نزدیک جو مقدس کتابیں معروف ہیں جن کے لانے والے پیغمبر کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں ان کتب میں زیادہ تصریحات مہدی موعودٴ کی ہیں کہ چند نمونے ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں۔
اصل موضوع سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ان کتابوں کو ہم آسمانی کتب نہیں سمجھتے اور ان کو لانے والوں کو پیغمبر نہیں مانتے بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ انہوں نے گذشتہ پیغمبروں کی کتب سے ان مطالب اور اقتباسات کو ذکر کیا ہے کیونکہ یہ مطالب آئندہ کے لیے ہیں اور ان مطالب کی پیشنگوئی وحی کے نتائج سے ہوتی ہے پس ہم چند پیشنگوئیاں یہاں پیش کرتے ہیں تا کہ مہدی موعودٴ کا عالمی عقیدہ موید اور منور ہو جائے۔
١۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب باسک ’’میں آیاہے کہ اس عالم کی انتہا آخرالزمانٴ میں ایک عادل بادشاہ کا وجود ہے کہ جو ملائکہ جنوں اور آدمیوں کا پیشوا ہو گا حق و سچ اس کے سامنے ہو گا جو کچھ دریاؤں، زمینوں، پہاڑوں میں چھپا ہے تمام کو اپنے ہاتھ میں لے گا زمین اور آسمانوں کے متعلق خبریں دے گا اس سے بزرگ تر اور کوئی بھی دنیا میں نہیں آیا ‘‘۔
٢۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب ’’شاکمونی‘‘ میں ہے کہ اس دنیا کی حکومت اور بادشاہی (کش ہندی میں پیغمبر کو کہتے ہیں) جو دو جہان کے سردار ہیں کی اولاد پر ختم ہو گی وہ ہو گا جو مشرق اور مغرب کی دنیا پر حکم چلائے گا بادلوںکی سواری کرے گا فرشتہ اس کے نوکر و خادم ہوں گے جن اور انسان اس کی خدمت میں ہوں گے سوڈان جو خط استوار کے نیچے سے لے کر ’’قسطین‘‘ کی زمین تک جو خطہ قطب شمالی کے نیچے ہے اور سمندروں کے ماورائ کا مالک ہو گا خدا کا دین اور زندہ ہو جائے گا اس کانام ’’قائمٴ‘‘ اور خدا شناس ہو گا۔
٣۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب ’’دید‘‘ میں ہے کہ دنیا کی بربادی کے بعد آخری زمانے میں ایسا بادشاہ ظاہر ہو گا جو تمام مخلوق کا پیشوا ہو گا اس کا نام منصور ہو گا(امام زمانہٴ کا لقب منصور ہے) تمام دنیا پر دین الہیٰ نظام کا حاکم ہو گا اور ہر شخص کو خواہ مومن ہو یا کافر پہچانتا ہو گا۔
٤۔ ایک اور مقدس کتاب ’’وشن جوک‘‘ میں دیکھتے ہیں کہ دنیا آخری میں ایسے شخص کے پاس جمع ہو گی جو خدا سے محبت رکھتا ہو گا اور وہ اس کے خاص بندوں سے ہو گا اور اس کا نام فرخندہ اور حجتیہ یعنی محمد و محمود ہو گا۔
٥۔ ’’دادتک‘‘ مقدس کتاب میں یوں لکھا ہے کہ آخرالزمان میں ایک مسلمان ایسا آئے گا کہ اس وقت کے ظلم علمائ کے اختلاف حکام کے تجاور، زاہدوں کی ریاکاری، امتیوں کی بے وفائی، حاسدوں کے حسد سے اسلام ختم ہوچکا ہو گا صرف اسلام کا نام باقی ہو گا پس حق کا ہاتھ آئے گا اور ممتاطا(ہندی میںمحمد کو کہتے ہیں) کے آخری جانشین ظاہر ہو گا مشرق و مغرب پر حکومت کرے گا ہر جگہ ہر ایک کی ہدایت کرے گا۔
٦۔ باتیکل کتاب میں یوں ہے کہ جب دن پورا ہو گا تو پرانی دنیا نئی ہو جائے گی یعنی زندہ ہوں گے اور دنیا کا مالک ظاہر ہو گا اور وہ عالم دنیا کے پیشوا کے فرزندوں میں سے ہوگا ایک آکرالزمان کی ناموس اور دوسرا اس کے بزرگ وصی کے فرزند کہ جن کا یسین (علی ابن ابی طالبٴ) نام ہے اور نئے مالک کا نام رہنما ہے (راہنما عربی میں ہادی اور مہدی کو کہتے ہیں جو دونوںامام زمانہٴ کے القاب ہیں) وہ بادشاہ بن جائے گا اور (لغت سانسکریت میں خدسا کو کہتے ہیں) میں خلیفہ ہو گا اور اس کے بہت معجزے ہوں جو ہندوؤں کی مقدس کتابوں میں مہدی موعودٴ کے بارے میں ہیں جو تمام کتاب مقدسہ سے واضح طور پر مہدیٴ موعود کی پیشگوئی کر رہا ہیں۔
زرد تشتیوں کی کتب میں مہدی موعودٴ:
١۔ مقدس کتاب ’’زند‘‘ میں آخری زمانہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے حالات زمانہ کے متعلق لکھا ہے کہ غالباً کامیابی ہر یمنی کو ہو گی جب کہ مملکت یزدان متعرض نہ ہو گا بلکہ از طرف افراد یزدان کی مدد ہو گی پھر اس کتاب میں ہے کہ بڑی کامیابی یزدان کی ہو گی اور ہر یمنی مٹ جائے گا پس ہر یمنیوں کے ختم ہونے اور یزدان کے کامیابی کے بعد اس کائنات میں اصلی سعادت آجائے گی اور نبی آدم نیک بختی کے تخت پر بیٹھے گا۔
٢۔ حاماسب اپنی معروف کتاب ’’حاماسب نامہ‘‘ میں زروشت سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر۰ کی بیٹی کے فرزند جو کہ دنیا کا سورج اور زمانے کا شاہ ہے وہ بادشاہ ہو گا اور دنیا میں یزدان کی اجازت سے اس کا حکم چلائے گا اور آخری پیغمبر کے وہ جانشین ہوں گے۔
٢۔ حاماسب اپنی معروف کتاب ’’حاماسب نامہ‘‘ میں زروشت سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر۰ کی بیٹے کے فرزند جو کہ دنیا کا سورج اور زمانے کا شاہ ہے وہ بادشاہ ہو گا اور دنیا میں یزدان کی اجازت سے اس کا حکم چلائے گا اور آخری پیغمبر کے وہ جانشین ہوں گے۔
٣۔ اس حاماسب نامہ میں ایک اور جگہ لکھا ہے کہ ایک شخص جو زمین سے آئے گا جو ہاشم کا فرزند با عظمت قد و کاٹھ والا جو اپنے نایاب کے دین پر قائم ہو گا وہ اپنے دشمن کی فوج پر حملہ کرے گا اور زمین کو آباد کرے گا اور استغاثہ کرنے والوں کی داروسی کرے گا۔
٤۔ ایک مقدس کتاب ’’گاتھا‘‘ کے صفحہ ٢٤،٩٨ پر مہدی موعودٴ کے متعلق خوشخبریاں ہیں کہ وہ موعود جہانی اور مصلح کائنات ایک حکومت الہیٰ کی بنیاد رکھے گا۔
٥۔ کتاب ’’وی زنہوہومن پن‘‘ میں ہے کہ عجیب نشانیاں آسمان پر دیکھی جائیں گی جو دنیا کو نجات دلانے والے کی آمد کی دلالت کریں گے اس کے فرمان سے مشرق سے مغرب میں فرشتے پھیل جائیں گے پھر بڑے لوگوں کی شدید مقادمت کے باوجود اس کو فتح ہو گی اور سب لوگ اس کی تعظیم میں جھک جائیں گے۔
٦۔ جب گشتاسب طہور ساتیاتس (نجات دہندہ جہاں) اور اس کے نظام حکومت کے طور و طریقے کی وضاحت کی کہ نجات دہندہ فقر و تنگدستی کو ختم کر دے گا اور دین کو معاشرے میں رواج دے گا قیدیوں کو بڑے لوگوں سے نجات دے گا اور نجات دینے والے کے ظہور کا عقیدہ ملت ایران میں اس قدر رائج تھا کہ جنگی مشکتوں اور زندگی کے نشیب و فراز میں اس کے ظہور کے یاد آنے سے نا امیدی اور پریشانی سے اپنے آپ کو نجات دلاتے تھے جنگ قادسلہ میں رستم٨ کے مرجانے کے بعد جب کہ یزد جرداپنے لوگوں کے ساتھ بھاگنے کے لیے آمادہ تھا اور اپنے با عظمت موتن سے نکلتے وقت اپنے مجلل ایوان سے خطاب کیا اور کہا کہ اسے ایوان تجھ پر درود ہو کہ تمہارے وجہ سے ہوں اور اس وقت تک ہوں جب کہ اپنے ایک فرزند کے ظہور کے وقت تک (جس کا ابھی تک ظہور کا زمانہ نہیں آیا) واپس تمہاری طرف آجاؤں گا۔
سلیمان سلمیٰ لکھتا ہے کہ جب اما جعفر صادقٴ کی خدمت میں پہنچا تو یزد جرد کے مقصود (اپنے ایک فرزند) کے بارے پوچھا تو فرمایا کہ وہ مہدی موعودٴ قائمٴ آل محمد۰ ہیں جو حکم خدا سے آخری زمانہ میں ظہور فرمائیں گے وہ میرا چھٹی پشت میں بیٹا ہو گا اور یزدجرو کی بیٹی کے بطن سے ہو گا (امام سجادٴ کی والدہ) اس روایت کو ’’احمد بن عیاش جو شیخص صندوق کے معاصر تھے‘‘ نے اپنی کتاب منتخب میں کیا ہے۔
یہاں تک اقتباسات پیش کیے ہیں یہ مختلف اذہان و مذاہب کی مقدس کتاب میں ریمارکس ہیں کہ تمام کتب تقریباً ایک ہی انداز سے مصلح امام مہدیٴ و قائمٴ کے آنے کی خوشخبری دیتی ہیں اور ان خوشخبریوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا صاحب قدرت عظیم اور معجزہ ساز شخصیت ہیں جو حکومت جہانی کو کرہ زمین پر عدالت و حریت کی اساس پر قائم کر دیں گے اوریہ عقیدہ مسلمانوں سے میں منحصر نہیں بلکہ ادیان کے پروردگار اس مصلح جہانی کی انتظار میں ہیں۔
اور اگر نام مہدی قائمٴ کا لحاظ نہ کریں تو مصلح مقتدر کا ظہور کا عقیدہ توایرانیوں میں مضبوط ہے اور جنہیں لوگوں کی قدیم کتب کے درمیان حتیٰ قدیم مصریوں اور وحشی بوہی مکزیک وغیرہ میں سب میں یہ عقیدہ راسخ ہے کہ جس کا نمونہ ذیل میں ملاحظہ ہے۔
١۔ ایرانیوں کا ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ کشور تنظیم کرنے کے بعد اور تہذین بنانے کے بعد خود پہاڑوں میں چلا جائے گا وہاں وہ کچھ آرام کرے گا حتیٰ کہ ایک دن ظاہر ہو گا اور ہر ظالم کو کائنات سے نکال دے گا۔
٢۔ جرمنی نژاد لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ایک فاتح شخص طائف سے آئے گا اور جرمن کو پوری دنیا کا حاکم بنائے گا۔
٣۔ السلادنژاد کا عقیدہ تھا کہ مشرق سے ایک شخص آئے گا اور اسلام کے تمام قبائل کو متحدہ کرے گا اور دنیا ایران پر حکومت قائم کرے گا۔
٤۔ برہمون کا یہ عقیدہ ہے کہ آخری زمانہ میں ’’وشنو‘‘ ظہور کرے گا اور سفید گھوڑے پر وہ سوار ہو گا اور آگ بکھرنے والی تلوار اس کے ہاتھ میں ہو گی اور مخالفین سے لڑائی کر کے ان کو قتل کر دے گا اور پھر تمام دنیا برہمن ہو جائے گی اور اس کی مطاوعت پر پہنچے گی۔
٥۔ جائز انگلستان کے ساکن کئی صدیوں سے منتظر ہیں کہ ارنواجو آدلون میں حکومت پذیر ہے وہ ایک دن ظاہر ہو گا اور ساکسوں خانزاد کو دنیا میں غالب کرے گا ان کو سرداری نصیب ہو گی۔
٦۔ یہودیوں کا عقید ہے کہ ماشیمع (مہدیٴ بزرگ) ظہور فرمائے گا جو بادشاہوں کا بادشاہ ہو گا(لیکن آپ کو حضرت اسحاق کی اولاد سے سمجھتے ہیں)۔
٧۔ نصرانی بھی مہدیٴ کے وجود کے قائل ہیں اورکہتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ظہور فرمائیں گے اور پوری کائنات پر کنٹرول کریں گے البتہ اس مہدیٴ کے اوصاف اور اس کی تطبیق میں اختلاف ہے۔
٨۔ ہند کی مختلف اقوام و ملل اپنی مقدس کتاب کے مطابق ایک مصلح کی انتظار میں ہیں کہ جو ظہور کر کے حکومت جہانی الہیٰ قائم کرے گا۔
مندرجہ بالا کلمات اسلام کے مہدی موعودٴ پر کامل طور پر توطتبیق نہیں ہوتے بلکہ بعض تو بالکل موافق نہیں لیکن ایک حقیقت مسلم ہے کہ مصلح جہانی کے آمد کی نوید دنیا کے کونہ کونے تک پہنچ چکی ہے اور آخری زمانہ میں ایک صاحب قدرت رہبر کے ظہور کا عقیدہ دلوں میں راسخ ہو چکا ہے چونکہ فروغ حق سے اس سے زیادہ برخوردارنہ تھے لہذا اس کی تطبیق میں اشتباہ کیا ہے ان کی اس کوتائی نظری کے باوجود کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ تمام انتہا مشرق زمین سے آئے ہیں جب کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام ملل اور اقوام میں پیغامبر آئے ہیں اور لوگوں کو دین حق اور صراط مستقیم کی طرف بلاتے ہیں جس طرح کہ منطق وحی اس کی تصریح کرتی ہے (انمامنذر و لکل قوم ہاد) یعنی تم پر محمد خبردار کرنے والے ہو اورملت و قوم کا ایک رہبر ہوتاہے۔
جدید وسائل اور مہدی موعودٴ:
آج کے زمانہ میں ہر طرف ترقی ہے اور مسائل علمی میں بہت زیادہ ترقی بشر کو نصیب ہوئی ہے اسی لیے نظریہ مہدیٴ موعود ادیان اور مذاہب کی حدود سے باہر نکل گیا ہے اور زندگی کا مہم ترین مسئلہ شمار کیا جاتا ہے بزرگان قوم جنگوں، لڑائیوں، بحرانوں کے خاتمے اور جنگوں کے روکنے کے لیے ایک تیسری عالم جنگ تک پہنچیں گے کیونکہ جو راستہ تلاش کیا ہے وہ یہی ہے کہ جغرافیائی حدود ختم ہو جائیں اور ایک ہی حکومت قائم ہو یہ نظریہ دو عالمی تفکروں کا ہے۔
١۔ بین الاقوامی جوہری توانائی کو کنٹرول کر کے حکومت جہانی قائم کی جائے اور یا پھر موجودہ حکومتیں برقرار اور تمدن بشری کے انہدام کا باعث بنیں۔(مفہوم نسبیت صفحہ٣٥)
٢۔ برتر اندراسل: آج بھی جنگی خرابیاں سابقہ صدیوں سے کہیں زیادہ ہیں یا حکومت جہانی کو قبول کریں یا عہد بربریت کی طرف لوٹ جائیں اور نسل انسانی کی بربادی پر راضی ہو جائیں(تاثیر علم بر اجتماع صفحہ٥٦) اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ کونسا مصلح ہو گا جو جغرافیائی کی حدود کو ختم کر دے گا اور حکومت واحد جہانی کی بنیاد عدالت اور حریت پر رکھے گا؟
خلاصہ یہ کہ مہدی موعودٴ اور مصلح جہانی کی علم اور دین نے ضرورت بتائی ہے اور کئی انسان اس کے انتظار میں ایک ایک لحظہ گزار رہے ہیں وہ کون ہے؟ اس کا جواب صرف وہ لوگ دے سکتے ہیں (جو وحی اور ماورائ الطبیعت جہان سے مربوط ہوں لہذا ان کی زبان سے سنیں)۔
مہدی موعودٴ از دیدگاہ اسلام:
اسلام کے حیاتی مسائل سے ایک مہدی موعودٴ کا مسئلہ ہے اور اس کا تمام عقائد اور احکام سے ربط ہے قرآن می متعدد آیات ہیں کہ مہدیٴ موعود تفسیر کی گئی ہے اور ہزاروں حدیثیں آپ کے اوصاف میں بیان کرتی ہیں ان متواتر روایتیں جو چہاردہ معصومینٴ سے صادر ہوئی ہیں میں آپ کے اوصاف اور زندگی کی تمام خوبیاں اور اس مصلح جہانی کے حکومت واحد جہانی تشکیل دینا بیان ہوا ہے اور امام زمانہٴ کے بارے سنی و شیعہ کی اس قدر احادیث ہیں کہ شمار کرنے سے باہر ہیں ہم صرف ان احادیث کی فہرست ذکر کرتے ہیں۔
۔ ٣٩٣۔ حدیث میں تصریح ہوئی ہے کہ وہ امام حسن عسکریٴ کے فرزند ہیں۔
٢۔ ٩٥۔حدیث میں تصریح ہوئی ہے کہ وہ امام ہادی کے پوتے اور امام جواد کے بڑے پوتے ہیں۔
٣۔ ٩٥۔حدیث میں ہے کہ وہ حضرت رضاٴ کے چوتھے فرزند ہیں۔
٤۔ ١٩٩۔حدیث وارد ہوا ہے کہ حضرت موسیٰٴ بن جعفرٴ کی پانچویں نسل کے فرزند ہیں۔
٥۔ ٢٠٢۔اخبار میں آیا ہے کہ وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔
٦۔ ١٠٣۔روایات میں ہے کہ آپ حضرت امام باقر علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔
٧۔ ١٨٥۔روایات میں ہے کہ آپ حضرت امام سجادٴ کی اولاد سے ہیں۔
٨۔ ٣٠٣۔ روایات میں ہے کہ آپٴ حضرت امام حسین علیہ السلام کے نویں بیٹے ہیں۔
٩۔ ٢١٤۔حدیث ہیں کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کے دسویں نسل سے ہیں۔
١٠۔ ١٩٢۔ روایات میں ہے کہ وہ اولاد فاطمہٴ سے ہیں۔
۔ ٤٨۔حدیث میں ہے کہ آپ کا نام محمد۰ ہم نام رسول۰ اور کنیت ابوالقاسمٴ ہم کنیت رسول۰ ہیں۔
١٢۔ ١٣٦۔حدیث میں ہے کہ بارویں امام ہیں اور آخری پیشوا ہیں۔
١٣۔ ٩١۔حدیث غیبت طولانی میںہیں کہ صراحت ہے کہ اس کی دوغیبتیں ہیں ایک صغریٰ اور کبریٰ۔
١٤۔ ٥١۔احادیث میں آپ کی صورت اور سیرت کی بہت تعریفیں ہیں۔
١٥۔ ٤٧۔ احادیث میں تصریح ہے کہ آپ کے زمانہ میں اسلام عالمی دین ہوگا۔(یظہر علی الدین کلہ)
١٦۔ ١٢٣۔روایات میں وارد ہے کہ وہ شخصی طور پر عدالت اجتماعی کو روئے زمین پر بر قرار کریں گے۔
١٧۔ ٢٩٣۔روایات میں آپ کی ولادت کے بارے میں پیشوایان دین کی طرف سے پہنچی ہیں۔
١٨۔ آپ کی طولانی عمر کے مطلق حقائق ٣١٨ احادیث میں وارد ہوئے ہیں بلکہ یہاں تک تصریح ہے کہ غیبت اس قدر طولانی ہو گی کہ حقیقی شیعہ بھی اس عقیدہ ظہور مہدیٴ پر متزلزل ہو جائیں گے۔
١٩۔ ٦٥٧۔احادیث آپ کے ظہور کے بارے میں ہیں۔
٢٠۔ ٧۔روایات اس بارے میں ہیں کہ غیبت کے زمانے میں لوگ آپ سے کیسے فائدہ اُٹھائیں گے۔
پس یہ کلمات روایات ٣٤٩٢ ہیں جن کی فہرست درج ذیل ہے اور اس کے ساتھ ٢٥١٥ روایات جو امام زمانہٴ کے بارے میں ہیں اور صرف شیعہ کے آئمہ معصومینٴ سے وارد ہوئیں اور یہ سب کتاب نفیس ’’منتخب الاثر‘‘ میں ہیں اس کتاب منتخب الاثر جو ایک تحقیقی کتاب ہے مصنف نے یہ روایات کو مدرک معتبر ذکر کیا ہے۔
پس اس کتاب میں کلی طور پر ٦٢٠٧ روایات اپنے مدرک اور ماخذ کے ساتھ ١٥٤ معتبر کتب سے نقل کر کے جمع کی ہیں۔
اہل سنت کے منابع میں امام مہدی موعودٴ:
جو روایات اہل سنت کے مدارک میں ہیں امام زمانہ مہدیٴ موعود اور قائمٴ آل محمد۰ کے عدالت کی بنیاد پر ایک الہیٰ جہانی حکومت قائم کرنے کے متعلق ہیں وہ شیعہ روایات کم نہیں حتیٰ کہ صحاح ستہ جو اہل سنت کی معتبر ترین کتابیں ہیں سب مہدیٴ موعود کی روایات آتی ہیں۔
١۔ صحیح بخاری، جلد چہارم، کتاب الاحکام، باب نزول عیسیٰٴ بن مریم۔
٢۔ صحیح مسلم، جلد اول، باب الفتن و شرائط الساعۃ، باب نزول عیسیٰٴ۔
٣۔ متن ابن ماجہ، جلد دوم، باب خروج المہدیٴ۔
٤۔ متن الجادالوڈ، جلددوم، کتاب المہدیٴ۔
٥۔ متن ترمذی باب ماجائ فی المہدیٴ۔
ان صحاح ستہ کے علاوہ کئی اور سینکڑوں معتبر کتابوں میں مہدیٴ کے روایات موجود ہیں استاد علی محمد علی نے اپنی کتاب ’’الامام المہدیٴ‘‘ میں علمائے اہل سنت کی ٣٠٥ معتبر کتابوں کا نام لیا ہے کہ ٣٠ مصنفین نے تو حضرت ولی العصرٴ پر کتب لکھی ہیں اور ٣١ علمائ مصنفین نے اپنی کتابوں میں ایک باب مہدیٴ موعود کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور ١٤٤ مصنفین نے مختلف مضامینوں سے اپنی کتب میں روایات مہدی موعودٴ کو لائے ہیں۔(نوید امن و امان صفحہ٩٢،٩٦)
اگر تمام کتب کا نام لیں تو یہ طولانی ہو جائے گا بس ہم صرف ان کتابوں کو نام لیتے ہیں جو متعدد کاملاً حضرت مہدی موعودٴ پر لکھی گئی ہیں۔
١۔ ابراز الوہم من کلام ابن حزم، تالیف احمد بن صدیق بخاری۔
٢۔ الاحادیث القاضیہ بخروج المہدیٴ تالیف محمد بن اسماعیل ایریمانی متوفی١٥١۔
٣۔ احادیث المہدیٴ، تالیف سعد الدین حموئی متوقی۔٤٤۔
٤۔ احوال صاحب الزمان تالیف ابوبکر بن خثیمہ۔
٥۔ اربعن حدیث فی المہدیٴ تالیف ابونعیم اصغانی متوقی۔
٦۔ اریطین حدیث فی المہدیٴ تالیف ابوالعلائ ہمدانی۔
٧۔ ارشاد المتہدی فی نقل بعض الاحادیث الامارالواردہ فی شان الامام المہدیٴ تالیف محمد علی حسین۔
٨۔ البرہان فی علامات مہدیٴ آخرالزمان تالیف ملا علی متقی متوقی ٩٧٥۔
٩۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان تالیف محمد بن یوسف گنجی فی متوقی٦٥٧۔
١٠۔ تحریق النظرقی اخبار المہدیٴ آخر الزمان تالیف محمد بن عبدالعزیز بن مانع۔
١١۔ تلخیص البیان فی علامات مہدیٴ آخرالزمان تالیف ابن کمال پاشاخقی متوقی ٦٨٩۔
١٢۔ تلخیص البیان فی اخبار مہدی آخرالزمان تالیف ملاعلی مفتی متوقی٩٧٥۔
١٣۔ الجواب المقع المحرر فی المرو علی من طغیٰ دعوی انہ عیسیٰ اوالمہدہ المنتظر تالیف محمد حبیب اللہ۔
١٤۔ الرد علی من حکم وقفی ان المہدیٴ جائ و مضیٰ تالیف ملا علی قاری۔
١٥۔ رسالہ فی المہدی۔
١٦۔ الحرف الوردی فی اخبار المہدی تالیف جلال الدین سیوطی متوقی٩١٠۔
١٧۔ الحطر الوردی فی شرح قطر المشہدی فی اوصاف المہدی تالیف محمد بن محمد احمد حسنی متوقی١٠٣١۔
١٨۔ علامات المہدی جلال الدین سیوطی متوقی ٩١٠۔
١٩۔ فوائد الفکر فی ظہور المہدی المنتظر تالیف مرعی بن یوسف متوقی١٠٣١۔
٢٠۔ الغواصم عن القش القواحم۔
٢١۔ القطر المشہدی فی اوصاف المہدی تالیف احمد بن احمد بن حلوانی شافی متوقی١٣٠٧۔
٢٢۔ القول المنتصر فی علامات المہدی المہدیٴ المنتظر ابن حجر مکی متوقی٩٧٣۔
٢٣۔ المشرب الوردی فی مذہب المہدی تالیف ملا علی قاری متوقی ١٠١٤۔
٢٤۔ مناقب المہدی تالیف ابو نعیم اصفانی متوقی ٤٤٠۔
٢٥۔ المہدی تالیف ابوداؤد۔
٢٦۔ المہدی تالیف ابن قیم جفنبہ۔
٢٧۔ مہدی آل الرسول تالیف علی ولی سلطان محمد ہروی حنقی
٢٨۔ المہدی الی ماردفی المہدی تالیف محمد بن طولون۔
٢٩۔ النجم الثاقب فی بیان ان المہدی من اولاد علی بن ابی طالبٴ۔
٣٠۔ النطم الواضح المبین تالیف عبدالقادر بن حسر سالم۔
٣١۔ الہدیہ المہدویہ تالیف ابوار جائ محمد ہندی۔
٣٢۔ الہدیہ الندیہ تالیف قطب الدین مصطفیٰ بن کمال الدین حنفی متوقی ١١٦٢
آخر میں ایک نکتہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اہل سنت کی کتب میں جو مہدیٴ کی روایات آئی ہیں ان میں صرف روایات کلی کے نقل کرنے پر اکتفا نہیں بلکہ اکثر اوصاف اور خصوصیات مہدی موعودٴ کا ذکر ہوا ہے مثلاً ١٥ کتب اہل سنت میں تصریح ہے کہ مہدی موعودٴ فرزند بلا فصل حضرت امام حسن عسکریٴ ہیں۔
پس سنی و شیعہ طریقہ سے وارد ہونے والی روایات یا آثار مہدیٴ موعود کے عقیدہ کے بارے میں کئی قسم کے شک کے غبار اور چہرہ روشنی میں شک کو دور کر دیتے ہیں اور مثل آفتاب روشن پر عقیدہ روشن اور واضح ہے کہ چمکتا ہوا سورج آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا اور عدل و انصاف کی حکومت تشکیل دے گا اوراپنی دنیا پر ایک ہی نظام الہیٰ قائم ہو گا اور کوئی شخص محرومیت کی شکایت نہیں کرے گا۔
شیعہ منابع میں امام مہدی موعودٴ:
اگرچہ ہم نے پہلے ٦٢٠٠ احادیث کی فہرست جو شیعہ کتب میں ہیں دے چکے ہیں لیکن آخر میں پھر ذکر کرتے ہیں تا کہ سامعین کی خدمت میں کچھ نہ کچھ جامع معلومات پیش کریں اور وہ چند روایات بطور تبرک پھر عرض کر دیتے ہیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
١۔ مہدی موعودٴ اپنی جنگ اتنے تک جاری رکھیں گے جب تک کہ دین کے تمام ظالموں کو برباد نہیں کر دیتے۔
٢۔ مہدی موعودٴ کسی علاقہ میں اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک اس علاقے میں توحید اور اپنی فتح کا پرچم لہر کر نہ جائیں۔
(کمال الدین شیخ صندوق ص٣٢٧)
٣۔ مہدی موعودٴ مشرق و مغرب کو دینے اپنے کنٹرول میں لائیں گے اورپوری کائنات میں ایک ہی حکومت الہیٰ قائم کریں گے۔
(منتخب الائرص ٣٢٩)
٤۔ مہدی موعودٴ کے زمانے میں ذہنی طاقتوں کی ترقی ہوجائے گی اور انسان اعلیٰ ترین ترقی پر فائز ہو جائیں گے۔
(بحارالانوار ج٥٢،ص ٣٣٢)
٥۔ اس کی تعلیم و تربیت بلند پر پہنچ جائے گی اور انسان عالی ترین تعلیمی مراحل تک رسائی تک رکھتے ہوں گے۔
(بحارالانوار ج٥٢ ص٣٣٦)
٦۔ مہدی موعودٴ کے زمانے میں اخلاقیات کو زندہ کیا جائے گا اور اپنی اخلاقیات کو قائم کر دیا جائے گا۔(بحارالانوار ج٥٢ ص٣٣٦)
٧۔ اس اخلاقیات کے ساتھ اتحاد، اتفاق بھی ہو گا اور انسان دوسروں پر قربانی دینا فخر سمجھے گا۔(اختصاص معند ص٢٤)
٨۔ مہدی موعوڈع احوال کو لوگوں میں برابر برابر تقسیم کرے گا۔(بحارالانوار ج٥١ ص٧٨)
٩۔ مہدی موعودٴ کے زمانے میں تمام طبقات امتیازات ختم ہو جائیں گے۔(بحارالانوار ج٥٢ ص٣٠٩)
١٠۔ مہدی موعودٴ کے زمانے میںکسی قسم کی بدی نہ ہو گی ہر شخص امن و سکون سے رہے گا اور ہر شخص کی جان، مال و عزت محفوظ ہو گی۔
(اس دن کی امید راقم السطور کو ہے)
منجی عالم بشریت دین یہود اورزردشت کی روشنی میں :مضمون نگار مرزا ظہیر عب
مضمون نگار :مرزا ظھیرعباس المصطفی یونیورسٹی منجی عالم بشریت کے ظہور پر ایمان رکھنا، عادل حکومت کا برپا ہونا ہے اور عادل حکومت کا چاہنا انسانی فطرت ہے جسکی وجہ سے یہ عقیدہ ہر ملت اور ہر دین میں موجود ہے۔
محمد امین زین الدین کہتا ہے : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ )موجودہ وضعیت سے( اصلاح جامعہ کا عقیدہ، تاریخ بشریت کی ابتداء سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ دین اسلام کے عقاید سے مخصوص نہیں ہے کیونکہ اس عقیدہ کو اسلام سے پہلے ادیان آسمانی میں پایا گیا کہ سب نے بالاتفاق اس حقیقت کے واقع ہونے کی خبر دی ہے اور حتی مصلح کی صفات اور انکے اصلاحی کاموں کو بھی بیان کیا، البتہ ان کا نام مھدی اور انکی دعوتِ اصلاحی کو مھدویت کا نام نہیں دیا…… یہ عقیدہ اور فکر حتی دوسرے ادیان جیسے زردشتی برھمن و....، میں سرایت کرگیا ہے ۱
انبیاء طول تاریخ میں اپنی بعثت کو مقصد خلقت بشر جو حکومت عدل اور توحیدی بتایا ہے۔ جیسے خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
"و لقد کتبنا فی الزّبور من بعد الذکر انّ الارض یرثھا عبادی الصالحون" ۲
ترجمہ:اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھدیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔
۱۔ موعود شناسی ص ۱۰۴
۲۔ سورہ انبیاء ۱۰۵
اور دوسری جگہ فرماتا ہے:
"و نرید ان نّمنّ علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمّۃًح وّ نجعلھم الوارثین" ۱
ترجمہ:اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزوربنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں۔
اور سورہ صف میں خداوند فرماتا ہے:
"ھو الّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحقّ لیظھرہ علی الدّین کلّہ و لو کرہ المشرکون" ۲
ترجمہ:وہی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے یہ بات مشرکین کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
منجی عالم بشریت دین یہود میں
جس طرح ہر مذہب میں منجی موعود کا عقیدہ ہے اسی طرح قوم یہود بھی منجی موعود کا عقیدہ رکھتے ہیں
یہود معتقد ہے کہ آخر الزمان میں "ماشع" ظھور کرےگا اور ابدالآباد جھان میں حکومت کرےگا۔ وہ انکو اولاد حضرت اسحاق سمجھتے ہیں، حالانکہ توریت "کتاب مقدس یہود" میں صریحاً انکو اولاد اسماعیل جانا ہے ۳
یہودیوں کے نزدیک آخری نجات بخش "ماشیا" یا "مسیح" ہے جو جھان کو پاک کرےگا ۳
توریت میں کتاب اشعیا نبی گیارہویں باب میں آزاد کروانے والے کے بارے میں کہتے ہیں: مسکینوں کے درمیان عدالت کے ساتھ داوری کرےگا، مظلومون پر ظالموں
۱۔ سورہ قصص آیہ ۵
۲۔ سورہ صف آیہ ۹
۳۔ موعود نامہ ص ۷۰۸
۴۔ اسطورہ سوشیانت ص ۳
کے ظلم کو رکوادےگا،شریروں کو زیر کرےگا اور جھان میں عدالت الھی کو عام کرنے کے لئے کمر باندھ کے کھڑا ہوجائےگا، جس کے ظھور ہونے کی وجہ سے تمام ہستی سے ستم ختم ہوجائےگا، بھیڑ اور بھیڑئے، چیتا اور بکری، ایک ساتھ ہونگے، گائے،شیر اور بھیڑ ایک ہی ساتھ )ایک ہی جنگل میں( چرےنگے۔۔۔۔۔۔۔،۱
منجی عالم در اصل خدا ہی ہے:
توریت میں اس نجات دھندہ کو کبھی خود یہودیوں کے خدا کو کہا گیا ہے: جیسا کہ اشعیا نبی نے توریت میں کہا: نجات دھندہ در واقع وہی خدا ہے جو ہر چیز سے دانا و آگاہ ہے کہ جو اپنے بندوں کو طاقت عطا کرےگا روح کی نجات کےلئے اور اس کے علاوہ کوئی نجات بخش نہیں ہے۔
"اور میں یھوہ، تمہارا خدا و قدوس اسرائیل کا نجات دھندہ ہوں)اشعیای بنی ۴۳ آیہ ۳(۲
شخصیت ماشیح دین یہود میں:
بشر خاکی، جیسا کہ یہودی مذھب کے متون میں آیا ہے. موضوع ماشیح و دگئولا)آخری نجات(اھداف اولیہ خلقت جہان ہے البتہ یہ اسکا ربط ماشیح کی روح سے ہے۔
مگر فیزیک اور جسمانی لحاظ سےدیکھا جائے تو "ماشیح ایک انسان ہےجو مٹی سے بنا ہوا ہے، اولاد بشر سے جو عادی صورت میں متولد ہوا ہے"اسکی اصل و نسب کی نسبت حضرت داوود اور سلیمان کی طرف دی جاتی ہے، اور دوسری نشانیاں اسکی یہ ہیکہ اسکی صداقت اور پارسائی بدو تولد سے رو بہ افزا ہے، اپنے اعمال صالح کی بنا پر عالی ترین اور والاترین درجات تکامل روحانی حاصل ہوئی۔ ۳
ماشیح کی خاص صفات:
یشعیان نبی اسکی صفت کے بارے میں اسطرح کہتے ہیں : روح خداوند اس پر آئیگی، روح عقل وفہم، روح تدبیر وتوانایی، روح علم وترس الھی و۔۔۔۔،
اسکا فیصلہ سب کے لئے برابر ہوگا، زمین کو ظالموںسے خالی کرےگا۔۔۔۔،
۱۔ اسطورہ سوشیانت ص ۴
۲۔ اسطورہ سوشیانت ص ۴
۳۔ موعود نامہ ص ۷۱۰
۴۔ موعود نامہ ص ۷۱۰
ھارامبام)موسی بن میمون( کے عقیدہ کے مطابق: اسکا عقل وعلم حضرت سلیمان سے بھی زیادہ ہوگی۔ وہ قوم یہود کے آباء و اجداد)ابراھیم، اسحاق و یعقوب( سے بھی اور انبیاء بنی اسرائیل جو حضرت موسی علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے ہیں سے بلند مرتبہ ہوگا ۱
منجی عالم کے بارے میں یہودیوں کے اہم عقاید:
مہمترین اور اساسی ترین اصول آئین یہود میں، ماشیح کے ظھور اور دورہ نجات ) گئولا( کا ہے۔
ہر فرد یہودی جو ماشیح کا اعتقاد نہ رکھتا ہو اور اس کے آنے کے انتظار میں چشم بہ راہ نہ رکھتا ہو،)اسکو(حضرت موسی اور بقیہ انبیاء بنی اسرائیل کے باتوں کا منکر ماناجاتا ہے۔۔۔۔۔۔، ۲
زبور داوود میں لکھا ہے : بار الھی اپنی حکومت مَلِک کو دے اور اپنی عدالت کو مَلِک کے فرزند کو عطا فرما تاکہ لوگوں کے درمیان نیکی سے حکم و حکومت کرے۔۳
عصر گئولا)نجات دھندہ( میں واقع ہونے والی چیزیں:
۱۔ یہودیوں کے عبادت کے سنتوں کی احیاء
۲۔ بدی اور گناہ کا خاتمہ
۳۔ درک الھیت اور وجود خداوندی سے واقعی آگاھی
۴۔ جھان کا فقط خداوند کی عبادت کرنا۔ ۴
مشایح کے ظھور کا زمانہ:
ماشیح کے ظھور کا زمانہ خداوند کے توسط سے معین ہوگا، یہ ایک ایسا راز ہے جو پوشیدہ ہے۔۵
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ موعود نامہ ص ۷۱۰
۲۔ موعود نامہ ص ۷۰۸،۷۰۹
۳۔ موعود شناسی ص ۱۱۰
۴۔ موعود نامہ ۷۰۶-
۵۔ موعود شناسی ص ۱۱۰
ماشیح کا کسی بھی دور میں آنے کا امکا ن ہے، نہ اس معنی میں کہ وہ ظھور کے لئے مناسب وقت میں آسمان سے زمین پر نازل ہوکر ظاہر ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ زمین پر موجود ہے….. وہ ہر دور میں حاضر وناظر ہے…..،۱
منجی عالم بشریت دین زردشت میں:
مزدائی جو ظھور اسلام سے پہلے ایرانیوں کا اصل دین تھا، اس مذہب کے پیروکار تھے اس مذہب کے پیروکار، ایران کے علاوہ ھندوستان، پاکستان، سریلنکا وغیرہ میں بھی ہیں۔ ۲
فرشوکرت(Faraskart):آئین مزدینا)مزدیان( میں آخری زمانہ کو فرشوت کہا جاتاہے جس کے معنی ہستی کو تازہ کرنا، جھان کو نیاکرنا، زندگی کو خوش و خرم کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔، ۳
اب جو اوستا ہے اس میں سوشیانت کے بارے میں زیادہ نہیں ہے البتہ ساسانیان کے دور ایرانیوں کے پاس جو اوستا تھی اس میں سوشیانت کے بارے میں بہت سے سخن تھے۔ ۴
معانی و مفھوم سوشیانت:
کلمہء سوشیات صفت ہے، یعنی فائدہ مند یا فائدہ پہونچانے والا۔ ۵
بعض جہگوں پر سوشیانت کے معنی آزاد کرنے والا یا نجات بھی ذکر ہوا ہے، اور پیامبر ایرانی اپنے آپ کو سوشیانت یاد کیا ہے۔ ۶
کتاب اوستا میں بعض جگہوں پر سوشیانت صیغہء جمع کی شکل میں آیا ہے، یاران دین ، پیشوایان کیش اور جانشینان زرتشت وغیرہ کو یاد کرتے ہوئے۔
بعض جگہوں پر سوشیانت فقط ان تین نجات دھندوں – جو بعد میں ذکر کیا جائےگا -کے بارے میں آیا ہے۔
۱۔ موعود نامہ ص ۷۱۰ ۵،۶۔ اسطورہ سوشیانت ص ۶۳
۲۔ ادیان آسیا ص ۴۹
۳۔ اسطورہ سوشیانت
۴۔ اسطورہ سوشیانت ص ۵۷
بعض جگہوں پر سوشیانت فقط مفرد استعمال ہوا ہے اور وہ مخصوص آخری موعود کو یاد کرتے ہوئے۔ ۱
سوشیانت کو الگ الگ طرح سے لکھا جاتا تھا جیسے سوشانس، سوشیوس، سوسیوس، سیوخوش وغیرہ اور کبھی کبھی پہلویوں کی کتابوں میں سوشیانت کو سوکشانی بھی لکھا گیا ہے۔ ۲
تین منجی عالم بشریت:
تین ہزار سال کا آخری زمانہ و دسوان، گیرہواں اور بارہواں ہوگا، دورہ زرتشتی اور عہد شہریاری روحانی کو ایران کا پیامبر شمار کیا جاتا تھا۔ زرتست کی عمر جھان کو بدی سے نجات دلوانے کےلئے کافی نہیں تھی جسکی وجہ سے اس آخری ہزار سال کے شروع میں یک فرزند جو اسی کے فرزندوں میں سے اور اسی کی نسل سے ہوگا، ہر ایک کے درمیان ہزار سال کا فاصلہ ہوگا، ظاہر ہونگے اور قیامت برپا ہوگی ۔۔۔۔۔۔،۳
دسویں سال میں جو ایک نجات دھندہ آئےگا جسکا نام "ھوشیدر" اور دوسرا نجات دھندہ جسکا نام " ھوشیدرماہ" اور سب سے آخراور تیسرا نجات دھندہ جسکا نام "استوت ارت" جو اصلی ترین نجات دھندہ ہے اور وہی "سوشیانت" ہوگا۔ ۴
وہ جو تین دورہ جسکا عقیدہ مزدیسنا میں ہے ان کے نام دورہء آفرینش، آمیزش ہے جو بہت زیادہ طولانی ہے۔۵
مزدیسنا کا آخری موعود جو زرتشت کا تیسرا فرزند ہوگا، اوستا میں "استوت ارت"(AStVAteRetA) کے نام سے یاد کیا ہے۔ اور ضمناً اسکو اھورا مزدا کا آخری مخلوق شمار کیا گیا ہے، وہی جو اھورا مزدا کے فرمان سے قیام کرے گااور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جھان کو بدی اور ستم سے نجات دلواےگا۔۶
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۔ اسطورہ سوشیانت ص ۶۹
۲۔ اسطورہ سوشیانت ص ۷۲
۳،۴۔ اسطورہ سوشیانت ص ۵۹
۵۔ زردشتیان باورھاوآداب دینی آنھا ص۱۰۲
۶۔ اسطورہ سوشیانت ص ۶۹
سوشیانت کی ولادت:
سوشیانت کی ولادت "کیانسیہ" یا "کیان سو" میں ہوگی جیسا کہ آیا ہے زرتشت اھریمن کو آگاہ کرتے ہوئے اس سے کہا: اے اھریمن۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ اس سوشیانتِ پیروزگر کو آب "کیان سیہ = کیان سو" سے شرق میں متول ہو۔ ۱
یہاں پر لازم ہےاس نکتہ کا بیان کرنا کہ "آب کیان سو" سے مراد دریاچہء ھامون جو سیستان میں واقع ہے، "سو" کے معنی پانی کے ہے۔ ۲
دینکرد -پہلوی کے زمانہ کا ایک بغدادی نویسندہ ہے-اپنی کتاب میں لکھتا ہے:ایک لڑکی جسکا نام "گوباک ابو" کیانسہ" نامی پانی میں جاکر بیٹھجاتی ہے اور اس میں وہ نطفہ داخل ہوجاتا ہے اور اس قوت اسکی عمر پندرہ سال کی ہوتی ہے،اور وہی سوشیانت کی ماں ہے۔ ۳
آخری تین منجی عالم کی مبعث کا زمانہ :
سنت قدیم جو تمام کتابوں میں ضبط کیا گیا ہے زرتشت کو تیس سال کی عمر میں پیامبربنایا گیا۔۔۔۔، اسی طرح اس کے آنےوالے فرزندوں یعنی – ھوشیدربامی، ھوشیدرماہ اور سوشیانت- بھی اپنے جد کی طرح تیس سال کی عمر میں مبعوث ہونگے اور اھورا مزدا سے گفتگو کرینگے اور لوگوں کی نجات کا عہدہ اپنے ذمہ لینگے۔ - ۴
ایک سیاح، سیاستمداراور نویسندہء فرانسوی جو ناصر الدین شاہ کی سلطنت کے آٹھوے سال سے ایران میں تھا اپنے سفرنامہ میں جسکا عنوان "تین سال آسیا میں" صفحہ ۳۴۷ میں لکھتا ہے : "تمام ایرانی زرتشت سوشیانت کے انتظار میں ہیں" ، اور کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ وہ بہت جلد ہی ظھور کرےگااور دین باستان کو جو ایرانیوں سے چھین لیا گیا ہے اس کو واپس لائےگا۔۔۔۔۔، ۵
آخری منجی عالم:
زردشتیوں کی معروف کتاب "زند" میں ایزدان اور اھریمن کے درمیان مقابلہ کے ذکر کے بعد اس بات کو کہا: اس وقت ایزدان کی فتح ہوگی اور ایزدان کے فتح ہونے کے بعد اھریمن کی نسل نابود اور عالم خوش سعادت کو پہونچےگی اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱،۲۔ اسطورہ سوشیانت ص ۶۹ ۵۔ اسطورہ سوشیانت ص ۳۹
۳۔ اسطورہ سوشیانت ص ۹۷
۴۔ اسطورہ سوشیانت ص ۹۳
فرزندان آدم کی کرسی پر بیٹھےگی۔۱
جاماسب نے "جاماسبنامہ" میں زردشت سے نقل کرتے ہوئے کہا: ایک مرد سرزمین نازیان سے جو ھاشم کے ذریت سے ہوگا خروج کرےگا ۔۔۔۔۔۔، اپنے جد کے دین اور فراوان لشکر کے ہمراہ ایران کی طرف آئےگا، زمین کو آباد کرےگا اور اسکو عدل سے بھردےگا۔۲
نسب منجی :
اسی کتاب میں رسول خدا)ص( کی نبوت کی بشارت کے بعد کہتا ہے کہ وہ پیامبر جو)خورشید عالم اور شاہ زمان( سے معروف ہے اسکی بیٹی کے نسل سے ایک مرد خلافت پر پہونچےگا کہ دنیا میں یزدان کی حکم سے حکومت کرےگا، وہ اس پیامبر کا آخری خلیفہ ہے درمیان عالم یعنی مکہ میں، اسکی حکومت تا روز قیامت قائم رہےگی۔ ۳
منجی عالم بشریت نجات دھندہ ہے زردشتیوں کا :
کتاب زند بہمن یاس جو کتابِ اوستا کی شرح ہے جاماسب نے اہنے استاد زردشت کے قول کو اس طرح نقل کیا :"سوشیانس" کے ظھور سے پہلے خلاف وعدہ، جھوٹ،بے دینی وغیرہ عالم پھیل جائےگی، لوگ خداوند سے دور اور عالم فساد سے بھرجائےگا یہ امور، عالم کے احوال کو دگرگون کرکے ظھور منجی جہان کا زمینہ فراہم کرینگے۔۴
اسی کتاب میں کلمہ "سوشیانس" کی تفسیر میں آیا ہے کہ :سوشیانس وہ آخری فرد ہیکہ آئےگا اور زردشت کو عالم میں نجات دلوایگا۔۵
علامت ظھورمنجی عالم بشریت:
کتاب زند میں لکھا ہے کہ آسمان پر ایک عجیب و غریب حادثہ ظاہر ہوگا جو "خردشہرایزد" کے آنے پر دلالت کرتا ہے۔ آپکی اجازت سے ملائکہ مشرق و مغرب کی طرف بھیجے جائینگے تاکہ خبروں اور اعلانات کو عالم تک پہونچائیں۔۶
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ موعود شناسی ص ۱۰۸ ۶۔ موعود شناسی ص۱۰۹
۲۔ موعود شناسی ص۱۰۹
۳۔ وہی
۴۔ وہی
۵۔ وہی
یہودیوں کے منجی عالم کے بارے میں، زرتشتیوں کا ایک نظریہ:
میلاد مسیح سے ۵۶۷ سال پہلے اوروشلم، جب یہودیوں کے ملک کے پایتخت پر کابل کے بادشاہ نبوکد –انگش نام- کا قبضہ ہوا تو اس وقت کئی ہزار یہودیوں کو اسیر کرکے بابل منتقل کیا گیا اورمیلاد مسیح سے ۵۳۹ سال پہلے تک وہ سب یہودی اسیری کی زندگی بسر کررہے تھے اور اسی سال بابل کی حکومت کورش بزرگ کے ہاتھ آئی، اس نے بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا حکم دیا اور ان کو آزاد کردیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔،
یہود آزاد ہونے کے بعد دو گروپ میں تقسیم ہوگئے، ایک گروپ اپنے اجداد کی سرزمین واپس ہوگئے ۔۔۔۔۔۔، اور دوسرا گروپ ایران میں ہی کورش کی حکومت میں رہ گیا۔۔۔۔۔۔،
اس تاریخ کے بعد سے ایرانی اور یہودیوں کی آشنائی ایکدوسرے سے ہوگئی اور چند عقاید آئین مزدیسنا سے دین یہود میں سرایت کر گئی، از جملہ عقیدہء معاد،موضوع موعود، نجات بخش، اور شیطان ۔۔۔۔۔۔، ۱
اس یہ پتا چلتا ہے کہ دین یہود اسارت سے پہلے منجی موعود کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا۔
وان درپلوگ جو محقق کلیسا ہے لکھتا ہے: "مرنے کے بعد کوئی اور بھی دنیا ہے" دین یہود قدیم میں اصلاً یہ عقیدہ نہیں تھا۔۔۔۔۔، اور اسارت کے بعد یہ عقیدہ دین یہود میں پایا گیا۔ ۲
نتیجہ:
اس مختصر سے بحث کے بعد ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ منجی موعود کا عقیدہ ہرمذہب میں ہے۔ یہ عقیدہ بعض ادیان کے مطابق پہلے سے نہیں تھا جس طرح یہودیوں کا عقیدہ منجی موعود کے بارے میں زردشتیوں کے مطابق پہلے سے نہیں تھا۔
دوسری بات یہ ہے کہ عقیدہء منجی موعود میں تمام مذاہب اتفاق رکھتے ہیں مگر مصداق میں ختلاف ہے۔
نسب منجی موعود میں اکثر اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ وہ پیامبر کی نسل سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ اسطورہ سوشیانت ص ۴،۵
۲ اسطورہ سوشیانت ص۶
ماخذ و منابع
۱۔ قرآن مجید، ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی، انصاریان پبلکیشنز،قم، طبع دوم ۲۰۰۷۔
۲۔ اسطورہ سوشیانت،علی اصغر مصطفوی بیژن انتشارات فرھنگ دھخدا، تھران، چاپ اول۱۳۸۱۔
۳۔ زردشتیان باورھا وآداب دینی آنھا، مری بوس، ترجمہ: عسکر بھرامی، انتشارات فقنوس، ۱۳۸۱۔
۴۔ موعود شناسی، علی اصغر رضوانی، انتشارات مسجد مقدس جمکران، قم، چاپ اول ۱۳۸۴۔
۵۔ موعود نامہ، مجتبیٰ تونہ ای، ناشر میراث ماندگار، چاپ سوم ۱۳۸۵
امام مہدی غیر مسلموں کی نگاہ میں
انتظار ایک روحی کیفیت کا نام ہے اور یہ حالت موجب بنتی ہے کہ انسان آمادہ ہو اس چیز کیلئے کہ جس کا وہ انتظار کر رہا ہے اور اس کلمہ کا مقابل نا امیدی ہے جتنا انتظار زیادہ ہو گا اتنا انسان آمادہ ہو گا مثال کے طور پر امسان لے گھر پر کسی مہمان نے آنا ہے اور وہ اس کے انتظار میں ہے جتنا زیادہ اسکے آنے کا وقت قریب ہو گاانسان کی آمادگی اسکے استقبال کیلئے زیادہ ہو گی ۔
انتظار کی مختلف منازل ہیں جتنی زیادہ آنے والے سے محبت ہو گی اتنی ہی زیادہ شدت انتظار ہو گی پس انتظار کی کیفیت محبت اور دوستی سے سربوط ہے جتنی زیادہ محبت اور دوستی ہو گی اتنی ہی زیادہ انسان محبت اور دوستی کی راہ میں مشکلات اور پریشانیاں برداشت کر سکتا ہے یہ تھی حقہقت انتظار وہ کونسے عناصر ہیں کہ جن سے انتظار تشکیل پاتا ہے ؟
منجی بشریت کا انتظار تین عناصر سے تشکیل پاتا ہے ،
(۱)عنصر نفسی ، انسان منجی کے ظھور پر ایمان کامل رکھتاہو (۲) عنصر عقیدتی ،انسان ظھور لیلئے ہر وقت آمادہ ہو (۳) عنصرعملی وسلوکی، انتظار کرنے والا انسان اپنی استطاعت کے مطابق ظھور کیلئے زمینہ ہموار کرے ۔
ان تین وعناصر میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو انتظار حقیقی نہیں کہلائے گا۔
کیا مذاھب اسلامی کے نزدیک ظھور امام مھدی (عج)کا آخری زمانہ میں ظھور کرنا امور غیبی سے ہے ۔شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ ایک شخص مومن کا امام زمانہ پر اعتقاد رکھتا ہو